ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل : نیشنل ہائی وے پر آوارہ مویشیوں کا ڈیرا - حادثات کا سبب بنتا ہے رات کا اندھیرا

بھٹکل : نیشنل ہائی وے پر آوارہ مویشیوں کا ڈیرا - حادثات کا سبب بنتا ہے رات کا اندھیرا

Mon, 29 Aug 2022 13:20:12    S.O. News Service

بھٹکل،29 ؍ اگست (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے پر کسی مقام پر فورلین کا توسیعی کام ادھورا ہے تو کہیں یہ کام مکمل ہوا ہے مگر ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کی غفلت اور کوتاہی سے بہت سارے مقامات پر سڑکوں کو لائٹنگ کا پوری طرح انتظام نہیں کیا گیا ہے اور اس اندھیرے میں بیچ راستے پر پڑے رہنے والے مویشی جان لیوا حادثات کا سبب بن جاتے ہیں ۔
    
اکثر و بیشتر پورے نیشنل ہائی وے 66 پر جگہ جگہ مویشی ڈیرا ڈالے نظر آتے ہیں ۔ خاص کر بھٹکل سے   مینگلور اور بھٹکل سے کاروار اور  گوا کی طرف جاتے ہوئے چونکہ  اکثر جگہوں پر سڑک پر لائٹنگ کا بندوبست  نہیں کیا گیا ہے اس لئے وہاں پر رات کے اندھیرے میں  سواروں کو سڑک پر پڑے ہوئے گائیں، بچھڑے ، بھینسے اور بیلوں کے گروہ نظر نہیں آتے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ڈرائیورس اپنی گاڑیاں ان سے ٹکرانے سے بچانے میں ناکام رہتے ہیں ۔ کبھی کبھی یہ معاملہ خطرناک اور جان لیوا حادثہ میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ 
    
ہائی وے پر پڑے رہنے والے آوارہ مویشیوں سے ہونے والے حادثات روکنے   کا مسئلہ حل  کرنے کے لئے اُترکنڑا کے  سابق سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شیوپرکاش دیوراجو نے ان جانوروں کو پکڑ کر ان کے گلے میں ریفلیکٹر بیلٹ ڈالنے کی ایک منفرد اسکیم بنائی تھی ۔ مگر یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا ۔ ایک تو پولیس کے لئے تمام مویشیوں کو پکڑ کر ان کے گلے میں ریفلیکٹر بیلٹ ڈالنا عملاً ممکن نہیں ہو سکا ۔ دوسرے یہ کہ ان مویشیوں کی تعداد بڑھتے رہتی ہے اور نئے مویشی ان میں شامل ہوتے رہتے ہیں اس لئے صد فی صد کامیابی ناممکن ہے ۔ 
    
لہٰذا اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ اپنے مویشیوں کو سڑک پر آوارہ چھوڑنے والوں کے خلاف کڑی کارروائی شروع کی جائے اور دوسری طرف فورلین توسیعی منصوبے پر کام کرنے والی ٹھیکیدار کمپنی کو سڑک کنارے لائٹنگ کا بندوبست کرنے کا پابند بنایا جائے اور کوتاہی ہونے کی صورت میں اس کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ جب متعلقہ محکمہ جاتی افسران اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں  دیں گے تب تک موٹر سواروں کے لئے آوارہ مویشیوں کا خطرہ یونہی بنا رہے گا ۔         


Share: